Pages

Wednesday, 30 October 2013

علماء کی اپیل نظر اندار نہیں کر سکتے , حکومت مطالبات مان لے تو صلح ہو سکتی ہے : سربراہ تحریک طالبان پنجاب

چرچ ، قصہ خوانی بازار پر حملے کرنیوالے طالبان نہیں ہوسکتے ، نانگاپربت حملے کا مقصد ڈرون حملوں کا درد غیرملکیوں تک پہنچانا تھا بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو ہم حکومت اور فوج کیساتھ نہیں ہونگے بلکہ عوام سے مل کر ملک کا دفاع کرینگے ،عصمت اللہ معاویہکراچی (دنیا نیوز، ایجنسیاں )کالعدم تحریک طالبان پاکستان پنجاب شاخ اور جنود الحفصہ کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ نے کہا ہے کہ امن کیلئے جید علما کی اپیل کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتے ، حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کر لے تو صلح ہو سکتی ہے ۔اصولوں کی بنیاد پر حکومت سے مذاکرات کر سکتے ہیں،شرائط میڈیا کے ذریعے پیش ہوسکتی ہیں نہ ٹاک شوز کے ذریعے مذاکرات کئے جاسکتے ہیں،بھارت نے پاکستان پر حملے کی جرأت کی تو ہم حکومت اور فوج کیساتھ نہیں ہونگے بلکہ عوام سے مل کر ملک کا دفاع کرینگے ، بھتہ لینے ، چرچ ، قصہ خوانی بازار پر حملے کرنیوالے طالبان نہیں ہوسکتے ، نانگاپربت حملے کا مقصد ڈرون حملوں کا درد غیرملکیوں تک پہنچانا تھا۔ عصمت اللہ معاویہ نے میڈیا کوجاری کئے گئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا شریعت کے مطابق اصول وضع کرنے کے لئے حکومت جید علما ئکی کمیٹی بنائے تاکہ شریعت نافذ ہوسکے ۔ چرچ اور قصہ خوانی بازار پرحملے طالبان کو بدنام کرنے کے لئے کئے گئے ۔عصمت اﷲ معاویہ نے کہا میڈیا کا اپنی طرف سے مذاکرات کیلئے شرائط پیش کرنا صحافتی اصولوں کے منافی ہے ’ آزاد خارجہ پالیسی، امریکی تسلط سے آزادی’ ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ سمیت وہ تمام مسائل جن کی وجہ سے یہ جنگ چھڑی ہے اگر حکومت حل کر دے تو بالکل صلح ہوسکتی ہے ’پنچابی طالبان کا نعر ہ سیکولر قوتیں لگا تی ہیں’ ہماری جماعت سند ھ ’ بلو چستان ، گلگت ، بلتستان ، خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں موجو د ہے ۔ انہوں نے کہا ہم نے اب تک جو بھی اقدامات کئے ہیں وہ اسلام اور ملک کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کئے ہیں ہم اس مقصد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں جس مقصد کیلئے پاکستان حاصل کیا گیا تھا۔ پاکستان کے قیام کا مقصد شریعت محمدی کا نفاذ ہے اور اسی سوچ نے ہمیں پنجاب ، سند ھ ، بلو چستان ، خیبر پختونخوااور قبائلی علا قوں میں اکٹھا کیا ہے اور ہم آگے بڑھ رہے ہیں ۔ عصمت اﷲمعاویہ نے کہا ہم نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا اور اب بھی اگر حکومت سنجیدگی سے آغاز کرتی ہے تو پھر ہم اپنی شرائط مذاکرات کی میز پر رکھیں گے ۔ ہم مذاکرات کے ہر مرحلہ میں قوم کو اعتماد میں لینگے جس قوم کی آزادی کے لئے ہم نے اپنے گھر بار چھوڑے ہیں ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ عصمت اﷲ معاویہ نے کہا کہ جنود الحفصہ لال مسجد آپر یشن کے بعد وجو د میں آئی تھی ۔ مو لانا غازی عبد الرشید نے بے حیائی اور عریانی کے بڑھتے ہو ئے سیلاب کے خلاف آواز اٹھائی مگر حکومت نے امریکی دباؤ پر لال مسجد آپریشن کیا ۔ انہوں نے کہا شریعت کا نفاذ کو ئی بہت بڑا کام نہیں اگر حکومت خلوص نیت سے ملک کے جید علماء کی کمیٹی بنائے اور یہ کمیٹی ملک کیلئے شریعت کے مطابق اصول وضع کردے تو ملک میں شریعت نافذ ہو سکتی ہے ۔عصمت اﷲ معاویہ نے کہا اگر ڈرون حملے بند نہیں ہوتے اور ان سے شام سے لے کر بر ما تک مسلما نوں کا قتل عام جاری رہتا ہے تو ہم کسی صور ت میں بھی خامو ش نہیں رہ سکتے اور ہم بھی اپنے اسی طر ح حملے جار ی رکھیں گے ۔ ہندوستان اور افغانستا ن سے فنڈنگ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے عصمت اﷲمعاویہ نے کہا ہمیں اگر ہماری اپنی ایجنسیاں نہیں خرید سکیں تو بھارت اور افغانستان کی ایجنسیاں کیسے خرید سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہم تو یہاں پھنسے ہوئے ہیں اگر حکومت ہمیں راستہ دے تو دنیا دیکھے گی ہم بھارت کے اندر جا کر بھی کس طرح جنگ لڑ سکتے ہیں ۔

No comments:

Post a Comment