Thursday, 31 October 2013
Wednesday, 30 October 2013
محمد یوسف کی کہانی انہی کی زبانی!
’’ہماری رہائش ریلوے کالونی گڑھی شاہو لاہور میں تھی ۔یہاں میرے ہم مذہبوں کے بھی گھرتھے لیکن زیادہ آبادی مسلمانوں کی تھی۔ اتفاق کی بات کہیے کہ میرا زیادہ اٹھنا بیٹھنا ملنا جلنا اور کھیلنا کودنا بھی مسلمان لڑکوں کے ساتھ ہی تھا ۔سچی بات یہ ہے کہ وہ بھی مجھے اپنے جیسے ہی لگتے تھے ۔مسلمانوں کے ہاں مجھے کوئی ایسی خاص خوبی یا امتیازی بات نظر نہیں آتی تھی کہ میرے دل میں مسلمان ہونے کا شوق پیدا ہوتا ،مسلمانلڑکوں کے مشغلے بھی میرے جیسے ہی تھے۔ ایف سی کالج میں پڑھائی کے دوران میری دوستی ایک ہم جماعت لڑکے جاوید انور سے قائم ہوئی وہ کرکٹ کے سپرسٹار اور ہمارے سینئر ساتھی سعید انور کا چھوٹا بھائی ہے۔ میں نے زندگی بھر اس جیسا لڑکا نہیں دیکھا ۔میں اسے ملنے سعید بھائی کے گھر جاتارہتا تھا ۔سعید بھائی تو 1989ء سے قومی ٹیم میں تھے ،میں کوئی نوسال بعد 1998ء میں ٹیم میں آیا ۔وہاں اکثر ایک سابق کرکٹر ذوالقرنین حیدر آجاتے تھے جو تبلیغی جماعت میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ نیکی اور نماز روزے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت سعید بھائی کو ایسی باتوں کی لگن نہ تھی ۔اکثر جب ذوالقرنین حیدر یا تبلیغ والے دوسرے لوگ آتے تو سعید بھائی مجھے باہر بھیج دیتے کہ کہہ آئو کہ سعید گھر پر نہیں ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ ان کی طبیعت مذہب کی طرف آنے لگی ۔تبلیغی جماعت کے بزرگوں سے بھی ان کا میل جول بڑھ گیا۔ اپنی بیٹی کی وفات کے بعد وہ مکمل طورپر مذہبی رنگ میں رنگ گئے۔ اکثر تبلیغی دوروں پر رہنے لگے ۔وہ مجھے کہتے تھے ’’یوسف ہرروز سونے سے پہلے یہ دعا مانگا کرو۔‘‘ اے خدا!مجھے حق اور سچ کا راستہ دکھا… سعید بھائی نے مجھے ان دنوں کبھی یہ نہ کہا کہ مسلمان ہوجائو ہمیشہ اس دعا کی تلقین کرتے رہے۔ میں سعید بھائی کی نصیحت کے مطابق ہمیشہ سونے سے پہلے یہ دعا مانگتا رہا ۔میں نے سعید بھائی میں آنے والی تبدیلیوں کو بڑے غور سے دیکھا اور بہت متاثر ہوا ، پھر ایک عجیب بات ہوئی ۔میرا ایک دوست ہے وقار احمد، بڑی پرانی دوستی ہے ہماری ، یہ تین سال پہلے کی بات ہے میں حسب معمول رات کو یہ دعا مانگ کر سوگیا کہ ’’اے خدا مجھے حق اور سچ کا راستہ دکھا‘‘ رات میں نے خواب میں اپنے دوست وقار کو دیکھا وہ خوشی خوشی میرے پاس آیا اور کہنے لگا’’سنا ہے تم مسلمان ہوگئے ہو‘‘ میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا ۔آنکھ کھلنے پر میں یہ سوچتا رہا کہ کیا واقعی اللہ نے مجھے حق اور سچ کا راستہ دکھادیا ہے۔ وقار شیخوپورہ کا رہنے والا ہے۔ اتفاق دیکھئے کہ انہی دنوں پی آئی اے اور نیشنل بینک کے درمیان میچ کیلئے شیخوپورہ کرکٹ گرائونڈ تجویز ہوا۔ میں پی آئی اے کی طرف سے کھیل رہا تھا ۔شیخوپورہ پہنچا تو میرا وہی دوست وقار احمد مجھ سے ملنے آگیا۔ وہی خواب والی وضع قطع ، میں اس وقت حیران رہ گیا جب اس نے بالکل اسی انداز سے مجھ سے پوچھا ’’سنا ہے تم مسلمان ہوگئے ہو؟‘‘میں اس کا منہ دیکھنے لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ نے مجھے اشارہ دے دیا ہے کہ حق کا راستہ کیا ہے ۔ شام کو میں شیخوپورہ سے لاہور آیا تو سیدھا کیولری گرائونڈ سعید بھائی کے پاس چلا گیا یہ اکتوبر 2002ء کا ذکر ہے ۔میں نے سعید بھائی سے کہا ’’میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں‘‘ سعید بھائی نے مجھے گلے سے لگالیا مجھے کلمہ پڑھایا اور میری دنیا بدل گئی۔ اس دوران میں جب بھی رائے ونڈ جاتا اور حاجی عبدالوہاب صاحب سے پوچھتا کہ اب مجھے اسلام قبول کرلینے کا اعلان کردینا چاہئے تو وہ کہتے ’’نہیں ابھی نہیں‘ شاید انہیں میری شکل دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ ابھی میں اس لائق نہیں ہوا ۔میری مولوی فہیم صاحب اور طارق جمیل صاحب سے بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ انضمام بھائی کو پتہ چلا تو انہوں نے بڑی شفقت کی ۔ جون 2005ء میں کرکٹ ٹیم کچھ میچ کھیلنے سعودی عرب گئی ۔میچ تو نہ ہوئے البتہ ٹیم نے عمرہ کیا ۔اس سے کوئی ڈیڑھ دومہینہ پہلے میری بیوی بھی اسلام قبول کرچکی تھی میں نے اسے آزادی دی تھی کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے۔ پوری ٹیم نے عمرہ کیا لیکن میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوا کیونکہ ابھی تک میں نے مسلمان ہونے کا کھلا اعلان نہیں کیا تھا لیکن مجھے سخت بے تابی تھی کہ عمرے کی سعادت حاصل کروں ۔ میری بیوی بھی میرے ہمراہ تھی ۔ اب وہ تانیہ کی بجائے فاطمہ ہوچکی تھی۔رائے ونڈ سے مولوی فہیم صاحب نے مکہ میں موجود عالمگیر صاحب کے ذمہ لگایا اور وہ رات گئے ہم دونوں کو حرم شریف لے گئے ہم نے عمرہ ادا کیا ، یہ اللہ کا بہت بڑا کرم تھا۔ رات کے پچھلے پہر شروع ہونے والا عمرہ صبح پانچ بجے ختم ہوا۔ میں نے اسی وقت مولوی فہیم صاحب کو فون کیا انہوں نے حاجی عبدالوہاب صاحب سے ذکر کیا جنہوں نے مجھے قبول اسلام کا اعلان کرنے کی اجازت دے دی۔ پاکستان واپس آتے ہی میں نے اعلان کردیا ۔اسے اتفاق یا قدرت کا انعام کہیے کہ میں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کے نام بھی مسلمانوں والے رکھے تھے۔ بیٹی کا نام انیقہ یوسف اور بیٹے کا نام دانیال یوسف ہے ۔میرے قبول اسلام پر والد صاحب نے برہمی کا اظہار نہیں کیا والدہ کچھ رنجیدہ ہوئیں لیکن اب سب کچھ معمول پر آرہا ہے میں اللہ سے دعا گورہتا ہوں کہ وہ میرے پورے خاندان کو حق اور سچ کا راستہ دکھادے۔ آمین۔ ‘‘
اونٹ کا گوشت کھائیں بیماریاں بھگائیں
اونٹ کا گوشت کھائیں بیماریاں بھگائیں
طبی ماہرین نے اونٹ کے گوشت کے فوائد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اونٹ کا گوشت پرانے بخار عرق النساء شیاٹیکا،کالایرقانہپاٹائیٹس سی میں مفید ہے جب کہ اس کی چربی کا لیپ جوڑوں کے درد میں بھی فائدہ مند ہے ایک تحقیق کے مطابق اونٹ کے گوشت کو امراض قلب میں مفید اور انسانی جسم کیلئے کم چکنائی والا تمام ضروری مغدنیات و حیاتین سے بھر پور پروٹین کا موّر زریعہ قرار دیا ہے لیکن یاد نہے کہ اونٹ کا گوشت نمکین
ہونے کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کے مریض کیلئے استعمال کرنا مناسب نہیں
(اپ اونٹ کا گوشت کھائیں بیماریاں بھگائیں
طبی ماہرین نے اونٹ کے گوشت کے فوائد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اونٹ کا گوشت پرانے بخار عرق النساء شیاٹیکا،کالایرقانہپاٹائیٹس سی میں مفید ہے جب کہ اس کی چربی کا لیپ جوڑوں کے درد میں بھی فائدہ مند ہے ایک تحقیق کے مطابق اونٹ کے گوشت کو امراض قلب میں مفید اور انسانی جسم کیلئے کم چکنائی والا تمام ضروری مغدنیات و حیاتین سے بھر پور پروٹین کا موّر زریعہ قرار دیا ہے لیکن یاد نہے کہ اونٹ کا گوشت نمکین
ہونے کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کے مریض کیلئے استعمال کرنا مناسب نہیں
(اپکا بھائی عنایت الرحمن "سواتی" )کا بھائی عنایت الرحمن "سواتی" )
اسامہ بن لادن کی زندگی پر ایک نظر
957
تاریخ وفات:۔ 2006
نام والد : محمدبن عوض بن لادن
نام والدہ: حمیدہ العطاس عرف عالیہ غانم جو شام کی رہنے والی تھی اور1956میں ان کی شادی محمدبن عوض بن لادن سے ہوئی جن کی یہ دسویں شادی تھی۔ جبکہ محمدبن عوض بن لادن نے کل 22شادیاں کی جن سے54بچے تھے۔لیکن وہ ایک وقت میں چار ہی بیویاں اپنے پاس رکھتے تھے جبکہ باقی کو طلاق دے دیتے تھے۔
جائے پیدائش: ریاض، سعودیہ عرب
تنظیم: القائدہ
وجہ شہرت: امریکہ مخالف جہادی کاروائیاں
مکمل نام: اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن
نام والد : محمدبن عوض بن لادن
نام والدہ: حمیدہ العطاس عرف عالیہ غانم جو شام کی رہنے والی تھی اور1956میں ان کی شادی محمدبن عوض بن لادن سے ہوئی جن کی یہ دسویں شادی تھی۔ جبکہ محمدبن عوض بن لادن نے کل 22شادیاں کی جن سے54بچے تھے۔لیکن وہ ایک وقت میں چار ہی بیویاں اپنے پاس رکھتے تھے جبکہ باقی کو طلاق دے دیتے تھے۔
جائے پیدائش: ریاض، سعودیہ عرب
تنظیم: القائدہ
وجہ شہرت: امریکہ مخالف جہادی کاروائیاں
مکمل نام: اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن
· اسامہ
بن لادن کا خاندان
بیویاں: 5 عدد
پہلی شادی17سال کی عمر میں1974میںاپنے ماموں کی 14سالہ بیٹی نجوہ غانم سے ہوئی جس کو2001میں طلاق ہوئی۔ 1983میں خدیجہ شریف نامی عورت سے دوسری شادی کی اور1990میں طلاق دے دی۔1985میںخاہرہ نامی اور1987میں سیہام نامی عورتوں سے شادی کی۔2000میں امل السدہ نامی عورت سے پانچویں شادی ہوئی۔
بچے : 24سے26۔ آخری بچہ2001میں پیدا ہوا۔
اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957 کو سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان لادن فیملی سے تھا۔ اسامہ بن لادن محمد بن عوض بن لادن کے صاحبزادے تھے جو شاہ فیصل کے خاص دوستوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ لادن کا کاروبار پورے مشرق وسطہ میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کی تعمیراتی کمپنی نے شاہ فیصل اور شاہ فہد کے ادوار میں مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی تعمیر کا کام کیا تھا۔ ان دونوں منصوبوںمیںاسامہ بن لادن نے ذاتی طور پر دلچسپی لی تھی اور مختلف توسیعی منصوبے اپنی نگرانی میں مکمل کرائے تھے۔ اسامہ کے بقول انکے والد نےمجاہدین کی مدد کے لیے کروڑوں ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا تھا۔ اور وہ ساری زندگی مجاہدین کا انتظام کرتے رہے۔ ایک انٹرویو میں اسامہ بن لادن نے اپنے والد کے بارے بتاتے ہوئے کہا تھاکہ “شاہ فیصل دو ہی شخص کی موت پر روئے تھے، ان دو میں سے ایک میرے والد محمد بن لادن تھے اور دوسرے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔
اسامہ بن لادن نے اپتدائی تعلیم(1968 – 1976) ریاض کے التاغر ماڈل سکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے 1979میں ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ایم بی اے اور1981میں سول انیجنئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران ان کی ملاقات اسلام پسند اور مذھبی سمجھے جانے والے طالب علموں اور اساتذہ سے ہوئی جس سے طالب علمی کے زمانے ہی میں ہی ان کے نظریات میں تبدیلی آنی شروع ہوگئی۔
اسامہ کو مذہبی رجحان انکے والد محمد ان لادن سے وراثت میں ملا تھا۔ اسامہ بن لادن اور ان کا خاندان سعودی عرب کے عام لوگوں کی طرح امام احمد بن حمبل کا مقلد اور شیخ عبدل وہاب نجدی کے اجتہاد کا حامی تھا۔ شروع میں انہوں نے ایک عرب شہزادے کی سی زندگی گزاری مگر وقت کے ساتھ ساتھ انکے اندر تبدیلیاں آئیں۔ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونیں کی جارحیت کی خبر انہوں نے ریڈیو پر سنی۔ ابتدا میں انہوں نے افغان مجاہدین کی مالی معاونت کی مگر کچھ عرصے بعد وہ خود اپنی تمام دولت اور اثاثوں کے ساتھ میدان میں اتر آئے۔ اسامہ بن لادن نے شیخ عبداللہ عظام اور دیگر عرب مجاہدین کے ساتھ ملکر سوویت فوجوں سے جنگ کی۔1984میں اسامہ نے مکتبہ الخدمت کے نام سے ایک رفاعی تنظیم بنائی جبکہ اگست1988میں القاعدہ کی بنیاد ڈالی۔
روس کی شکست کے بعد جب افغانستان میں مجاہدین کی قیادت اقتدار کے حصول کے لیے آپس میں جھگڑ پڑی تو اسامہ بن لادن سعودی عرب واپس چلے گئے۔
1990میں جب صدام حسین نے کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تو جہاں دنیا کے اکثر ممالک نے عراق کے اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیا وہاں عرب ممالک عراق کے اس قدم کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ اس موقع پر جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا سعودی عرب نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا ۔ شاہ فہد کی دعوت پر امریکہ کی تین لاکھ کے قریب فوجیں سعودی عرب پہنچ گئی جن میں سے ایک بڑی تعداد آجتک وہاں موجود ہے۔
امریکی فوجوں کی آمد پر اسامہ بن لادن پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ پیش کش کی عراق کے خطرات سے نمٹنے کیلیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم شاہ فہد نے اسامہ کے مشورے کو یکسر نظر انداز کرکے امریکیوں کو خوش آمدید کہا۔
جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی اور آخرکار 1992میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا۔ اسامہ بن لادن نے سوڈان میں بیٹھ کر مقدس سرزمین پر ناپاک امریکی وجود کے خلاف عرب نوجوانوں میں ایک تحریک پیدا کی اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں جاری دیگر اسلامی تحریکوں سے رابطے قائم کئے۔ اسی دوران اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملوں کا مشہور فتوی بھی جاری کردیا۔اس فتوی کے چھ ماہ بعد کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کیے گئے جس میں ڈھائی سو کے قریب افراد مارے گئے۔ ان حملوں کا شبہ اسامہ بن دلان اور ان کے سولہ ساتھیوں پر ظاہر کیاگیا۔
1994میں شاہ فہد نے اسامہ بن لادن کی سعودی شہریت ختم کر دی۔
سوڈان کے شہر خرطوم میں اسامہ نے رہائش اختیار کر لی اور نہ صرف سعودی عرب میں امریکی فوجوں کی مخالفت کرتے رہے بلکہ دنیا بھر کے مجاہدین سے رابطے شروع کر دیے۔ جس پر سعودی عرب، مصر اور امریکی اعتراض کے سبب اسامہ کو سوڈان بھی چھوڑنا پڑا۔
مئی1996میں اسامہ بن لادن اپنے ایک پرائیویٹ چارٹر جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچے جہاں طالبان کے امیر ملا عمر کی جانب سے انھیں سرکاری پناہ دے دی گئی۔ اسامہ بن لادن نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القائدہ کی ازسر نو تنظیم کی اور دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کاروائیاں تیز کردیں۔ اسامہ بن لادن نے اپنے جہادی کیمپس زیادہ تر جلال آباد سے قریب تورا بورا میں قائم کئے۔ 1997 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دباﺅ ڈالا مگر طالبان نے اپنے مہمان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ جسکے بعد طالبان اور امریکہ میں تلخی کافی بڑھ گئی۔ 1998میں امریکہ نے کروز میزئل سے افغانستان پر حملہ کیا اور دعوی کیا کہ حملے میں اسامہ بن لادن کے جہادی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور حملوں کا مقصد اسامہ بن لادن کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ اس حملے کے بعد اسامہ بن لادن کو دنیا میں ایک نئی شناخت ملی اور ان کی تنظیم پوری دنیا میں امریکی عزائم اور جارحیت کے سامنے واحد مدمقابل کے طور پر سامنے آئی۔ ان حملوں کے بعد اسامہ بن لادن روپوش ہوگئے اور عوامی اجتماعات میں شرکت سے اجتناب برتنا شروع کردیا۔
2001میں اسامہ بن لادن کا آخری انٹرویوپاکستان کے صحافی حامد میر نے کیا جبکہ2004میں ان کا دنیا سے آخری رابطہ امریکی انتخابات کے دوران ایک وڈیو ٹیپ کے ذریعے ہوا۔
امریکی حکومت نے 11 اکتوبر2001 کو امریکی شہروں نیو یارک اورواشنگٹن میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا الزام بھی اسامہ بن لادن پر لگایا اور 7اکتوبر2001میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔
2001میں امریکی حملے کے بعد سے اسامہ بن لادن کے بارے میں متضاد اطلاعات ہر وقت گردش میں رہیں۔ کبھی کہا جاتا کہ اسامہ بن لادن امریکی فوجیوں کے گھیرے میں آگئے ہیں تو کبھی یہ مشہور ہوجاتا ہے کہ اسامہ بن لادن انتقال کرگئے ہیں۔ اسامہ بن لادن کی بیماری کی خبریں بھی آتی رہیں اور کچھ کے خیال میں اسامہ 2001 میں تورا بورا پر امریکی حملے کے نتیجے میں شہیدہوگئے تھے اور ان لوگوں کے مطابق اسامہ کے بعد کے تمام پیغامات جعلی تھے۔
امریکہ نے ان کی گرفتاری یا ہلاکت پر ان پر پچاس ملین ڈالر انعام کا اعلان رکھا تھا۔
بیویاں: 5 عدد
پہلی شادی17سال کی عمر میں1974میںاپنے ماموں کی 14سالہ بیٹی نجوہ غانم سے ہوئی جس کو2001میں طلاق ہوئی۔ 1983میں خدیجہ شریف نامی عورت سے دوسری شادی کی اور1990میں طلاق دے دی۔1985میںخاہرہ نامی اور1987میں سیہام نامی عورتوں سے شادی کی۔2000میں امل السدہ نامی عورت سے پانچویں شادی ہوئی۔
بچے : 24سے26۔ آخری بچہ2001میں پیدا ہوا۔
اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957 کو سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان لادن فیملی سے تھا۔ اسامہ بن لادن محمد بن عوض بن لادن کے صاحبزادے تھے جو شاہ فیصل کے خاص دوستوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ لادن کا کاروبار پورے مشرق وسطہ میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کی تعمیراتی کمپنی نے شاہ فیصل اور شاہ فہد کے ادوار میں مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی تعمیر کا کام کیا تھا۔ ان دونوں منصوبوںمیںاسامہ بن لادن نے ذاتی طور پر دلچسپی لی تھی اور مختلف توسیعی منصوبے اپنی نگرانی میں مکمل کرائے تھے۔ اسامہ کے بقول انکے والد نےمجاہدین کی مدد کے لیے کروڑوں ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا تھا۔ اور وہ ساری زندگی مجاہدین کا انتظام کرتے رہے۔ ایک انٹرویو میں اسامہ بن لادن نے اپنے والد کے بارے بتاتے ہوئے کہا تھاکہ “شاہ فیصل دو ہی شخص کی موت پر روئے تھے، ان دو میں سے ایک میرے والد محمد بن لادن تھے اور دوسرے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔
اسامہ بن لادن نے اپتدائی تعلیم(1968 – 1976) ریاض کے التاغر ماڈل سکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے 1979میں ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ایم بی اے اور1981میں سول انیجنئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران ان کی ملاقات اسلام پسند اور مذھبی سمجھے جانے والے طالب علموں اور اساتذہ سے ہوئی جس سے طالب علمی کے زمانے ہی میں ہی ان کے نظریات میں تبدیلی آنی شروع ہوگئی۔
اسامہ کو مذہبی رجحان انکے والد محمد ان لادن سے وراثت میں ملا تھا۔ اسامہ بن لادن اور ان کا خاندان سعودی عرب کے عام لوگوں کی طرح امام احمد بن حمبل کا مقلد اور شیخ عبدل وہاب نجدی کے اجتہاد کا حامی تھا۔ شروع میں انہوں نے ایک عرب شہزادے کی سی زندگی گزاری مگر وقت کے ساتھ ساتھ انکے اندر تبدیلیاں آئیں۔ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونیں کی جارحیت کی خبر انہوں نے ریڈیو پر سنی۔ ابتدا میں انہوں نے افغان مجاہدین کی مالی معاونت کی مگر کچھ عرصے بعد وہ خود اپنی تمام دولت اور اثاثوں کے ساتھ میدان میں اتر آئے۔ اسامہ بن لادن نے شیخ عبداللہ عظام اور دیگر عرب مجاہدین کے ساتھ ملکر سوویت فوجوں سے جنگ کی۔1984میں اسامہ نے مکتبہ الخدمت کے نام سے ایک رفاعی تنظیم بنائی جبکہ اگست1988میں القاعدہ کی بنیاد ڈالی۔
روس کی شکست کے بعد جب افغانستان میں مجاہدین کی قیادت اقتدار کے حصول کے لیے آپس میں جھگڑ پڑی تو اسامہ بن لادن سعودی عرب واپس چلے گئے۔
1990میں جب صدام حسین نے کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تو جہاں دنیا کے اکثر ممالک نے عراق کے اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیا وہاں عرب ممالک عراق کے اس قدم کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ اس موقع پر جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا سعودی عرب نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا ۔ شاہ فہد کی دعوت پر امریکہ کی تین لاکھ کے قریب فوجیں سعودی عرب پہنچ گئی جن میں سے ایک بڑی تعداد آجتک وہاں موجود ہے۔
امریکی فوجوں کی آمد پر اسامہ بن لادن پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ پیش کش کی عراق کے خطرات سے نمٹنے کیلیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم شاہ فہد نے اسامہ کے مشورے کو یکسر نظر انداز کرکے امریکیوں کو خوش آمدید کہا۔
جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی اور آخرکار 1992میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا۔ اسامہ بن لادن نے سوڈان میں بیٹھ کر مقدس سرزمین پر ناپاک امریکی وجود کے خلاف عرب نوجوانوں میں ایک تحریک پیدا کی اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں جاری دیگر اسلامی تحریکوں سے رابطے قائم کئے۔ اسی دوران اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملوں کا مشہور فتوی بھی جاری کردیا۔اس فتوی کے چھ ماہ بعد کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کیے گئے جس میں ڈھائی سو کے قریب افراد مارے گئے۔ ان حملوں کا شبہ اسامہ بن دلان اور ان کے سولہ ساتھیوں پر ظاہر کیاگیا۔
1994میں شاہ فہد نے اسامہ بن لادن کی سعودی شہریت ختم کر دی۔
سوڈان کے شہر خرطوم میں اسامہ نے رہائش اختیار کر لی اور نہ صرف سعودی عرب میں امریکی فوجوں کی مخالفت کرتے رہے بلکہ دنیا بھر کے مجاہدین سے رابطے شروع کر دیے۔ جس پر سعودی عرب، مصر اور امریکی اعتراض کے سبب اسامہ کو سوڈان بھی چھوڑنا پڑا۔
مئی1996میں اسامہ بن لادن اپنے ایک پرائیویٹ چارٹر جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچے جہاں طالبان کے امیر ملا عمر کی جانب سے انھیں سرکاری پناہ دے دی گئی۔ اسامہ بن لادن نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القائدہ کی ازسر نو تنظیم کی اور دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کاروائیاں تیز کردیں۔ اسامہ بن لادن نے اپنے جہادی کیمپس زیادہ تر جلال آباد سے قریب تورا بورا میں قائم کئے۔ 1997 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دباﺅ ڈالا مگر طالبان نے اپنے مہمان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ جسکے بعد طالبان اور امریکہ میں تلخی کافی بڑھ گئی۔ 1998میں امریکہ نے کروز میزئل سے افغانستان پر حملہ کیا اور دعوی کیا کہ حملے میں اسامہ بن لادن کے جہادی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور حملوں کا مقصد اسامہ بن لادن کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ اس حملے کے بعد اسامہ بن لادن کو دنیا میں ایک نئی شناخت ملی اور ان کی تنظیم پوری دنیا میں امریکی عزائم اور جارحیت کے سامنے واحد مدمقابل کے طور پر سامنے آئی۔ ان حملوں کے بعد اسامہ بن لادن روپوش ہوگئے اور عوامی اجتماعات میں شرکت سے اجتناب برتنا شروع کردیا۔
2001میں اسامہ بن لادن کا آخری انٹرویوپاکستان کے صحافی حامد میر نے کیا جبکہ2004میں ان کا دنیا سے آخری رابطہ امریکی انتخابات کے دوران ایک وڈیو ٹیپ کے ذریعے ہوا۔
امریکی حکومت نے 11 اکتوبر2001 کو امریکی شہروں نیو یارک اورواشنگٹن میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا الزام بھی اسامہ بن لادن پر لگایا اور 7اکتوبر2001میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔
2001میں امریکی حملے کے بعد سے اسامہ بن لادن کے بارے میں متضاد اطلاعات ہر وقت گردش میں رہیں۔ کبھی کہا جاتا کہ اسامہ بن لادن امریکی فوجیوں کے گھیرے میں آگئے ہیں تو کبھی یہ مشہور ہوجاتا ہے کہ اسامہ بن لادن انتقال کرگئے ہیں۔ اسامہ بن لادن کی بیماری کی خبریں بھی آتی رہیں اور کچھ کے خیال میں اسامہ 2001 میں تورا بورا پر امریکی حملے کے نتیجے میں شہیدہوگئے تھے اور ان لوگوں کے مطابق اسامہ کے بعد کے تمام پیغامات جعلی تھے۔
امریکہ نے ان کی گرفتاری یا ہلاکت پر ان پر پچاس ملین ڈالر انعام کا اعلان رکھا تھا۔
· حالانکہ
حقیقت یہ تھی کہ اسامہ بن لادن 2006 کو فطری موت کے ذریعے ہی اپنے خالق حقیقی
جاملا تھا،لیکن چونکہ اوبامہ کو ایک بار پھر ایکشن میں جیتنا تھا تو اس نے ایک
ڈرامہ پاکستانی آرمی اور وقت کے غداروں کے مل کر بنایا کہ
یکم او دو مئی2011 کی شب پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن ہلاک ہو گئے۔
یکم او دو مئی2011 کی شب پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن ہلاک ہو گئے۔
کوئی کچھ بھی سمجھے میں (عنایت الرحمن سواتی) اسامہ بن لادن کو ایک بہادر مجاہد اور مسلمانوں کا ایک عظیم قائدسمجھتاہوں
عورت اپنے شوہر سے کیا چاہتی ہے”
عورت کو سمجھنے کے بارے میں اہل مغرب کا شعور اہل
مشرق کی نسبت کسی قدر بہتر ہے۔مغرب میں اگرچہ عورت کی بظاہربہت عزت کی جاتی ہے اور
اسے برابری کے حقوق دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ
وہ عورت کے دلی جذبات کی قدر بھی کرتے ہیں۔عہد جدید میں انسان کو سمجھنے کیلئے
سگمنڈ فرائیڈ سے زیادہ کسی اور نے راہنمائی نہیں کی مگر فرائیڈ نے بھی اپنی ایک
تحریر میں یہ اعتراف کیا تھا کہ ” میں ایک سوال کا جواب نہیں د ے سکا ہوں اور وہ
سوال یہ ہے کہ ”عورت اپنے شوہر سے کیا چاہتی ہے”۔
اس سوال کے حوالے سے مختلف مذاہب کے مفکرین، دانشور،
سماجی و نفسیاتی ماہرین نے اپنی اپنی آرا پیش کی ہیں۔
اسلام اس سوال کے جواب کے حوالے سے کہتا ہے کہ “کہ
اللہ تعالیٰ نے مرد عورت کوایک ہی جوہر سے پیدا کیا۔فرمایا،” الذی خلقکم مِن نفس
وّ احَدَة”۔ یعنی مرد اورعورت کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا۔ ایک قسم کی طاقتوں کے
ساتھ اور ایک ہی قسم کے جذبات کے ساتھ۔ایک ہی قسم کے ارادوں کے ساتھ۔ ایک ہی قسم
کی فکروں کیساتھ اورایک ہی قسم کی امنگوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
گویا اس آیت میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ مرد اور
عورت خلقی اعتبار سے برابر ہیں اور ایک ہی اصل پر چل رہے ہیں۔جس قسم کی باتیں مرد
کو غصہ دلا سکتی ہیں ویسی ہی باتیں ایک عورت کو بھی غصہ دلاسکتی ہیں۔جس قسم کے
سلوک کو ایک مرد ناپسند کرتا ہے۔ویسے ہی سلوک کو عورت بھی ناپسند کرتی ہے۔اور جس
قسم کے جذبات ایک مرد میں پائے جاتے ہیں ویسے ہی جذبات عورت میں پائے جاتے ہیں۔
تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مرد کی نسبت
عورت کے لطیف جذبات ہیں اوراس کے جذبات میں شدت پائی جاتی ہے۔
اسلام کی تعلیم میں جہاں انسانی زندگی کا احاطہ کیا
ہوا ہے وہاں مرد عورت دونوں کی نفسیات کا بھی ذکر ہے اور بالخصوص عورت کے لطیف
جذبات کی پاسداری اور اس سے حسن سلوک پر بہت زور دیا گیا ہے۔ مگر بہت کم
دانشوروںنے اسلامی تعلیم کی روشنی میں” عورت کیا چاہتی ہے” کا تجزیہ پیش کیا ہے۔
ماہرین نفسیات کے نزدیک انسان کو بہت سی بصیر تیں
حاصل ہونے کے باوجود انسانی جذبوں کا پوری طرح ادراک حاصل نہیں رہا اور صدیوں سے
یہ سوال الجھن بنا ہوا ہے کہ ”عورت اپنے شوہر سے کیا چاہتی ہے”۔اگرچہ مختلف ادوار
کے مختلف ماہرین نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش بھی کی مگر ان میں سے بیشتر جواب
فطری تقاضوں( اسلامی تعلیمات) کے برعکس تھے ۔ تاہم یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ دور
جدید کے ماہرین کے جواب اسلام کی بیان کردہ نفسیات کے کسی قدر قریب ہیں۔
ماہرین کے مطابق عورت کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے
کہ اس کا شوہر ایماندار ہو۔یہ خواہش دنیا کی تقریباً تمام عورتوں کی ہوتی ہے کہ
شوہر اپنی بیوی سے دیانتداری سے کام لے ۔ عورت کی دوسری بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ
شوہر میں بیوی کی حفاظت کا فریضہ انجام دینے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہو۔کسی بھی
معاشرے یا قوم کی عورت ہمیشہ سے ہی صنعف نازک میں شمار ہوتی ہے اور اسے شروع زندگی
میں اپنے والدین کی حفاظت میں رہنے کی عادت پڑجاتی ہے چنانچہ نفسیاتی طور پر بھی
شادی کے بعد اس کے دل میں یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ محفوظ بازﺅں کے حصار میں رہے۔
شوہر کا ذہین ہونابھی بیوی کی خواہشات میں سے ایک
ہے۔بے وقوف مرد تو ویسے بھی معاشرے میں مذاق کا باعث بنتے ہیں چہ جائیکہ شوہر کی
بے وقوفی کی وجہ سے بیوی مذاق کا نشانہ بنے۔ چنانچہ ہر بیوی اپنے شوہر میں ذہانت
کا ہونا ضروری قرار دیتی ہے ۔
پھر دنیا کی ہر عورت اپنے شوہر کو ایک وفادار شوہر
کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہے۔ عورت کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر صرف اس کا
شوہر ہو۔ شوہر کی بے وفائی کسی بھی عورت کو خصوصاً مشرقی عورت کو اندر سے تھوڑ
پھوڑ دیتی ہے۔ ایک اور خوبی ہے جو ہر عورت اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی ہے ۔ وہ ہے
بانک پن اور بہادری۔ تمیز دار ہونا بھی کسی مرد کی ایسی خوبی ہے جو عورت کو پسند
ہے۔ بد تمیز انسان تو ویسے بھی کسی کو اچھا نہیں لگتا ۔ بد تمیز شوہر کیسے ایک
بیوی کو اچھا لگ سکتا ہے۔ چنانچہ شوہر کا مہذب ہونا بھی ضروری ہے۔
پھر عورت کی ایک اور خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس
کی عزت کرے۔ خصوصاً مہمانوں ، عزیز واقارب کی موجودگی میں تو عورت کی یہ خواہش اور
بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ عورت کی عزت کرنا اصل میں مرد کی
اپنی عزت کروانے کے مترادف ہے۔ پھر عورت یہ بھی چاہتی ہے کہ اس کا شوہر اس کا صرف
شوہر ہی نہ ہو بلکہ اس کا دوست بھی ہو۔
عورت شوہر کو ایک شریف شخص کے روپ میں زیادہ پسند
کرتی ہے۔ ایک بدمعاش اور غنڈے کے روپ میں نہیں۔ عورت کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ عزیز
و اقارب، محلہ دار اور دیگر افراد اس کے شوہر کی شرافت کی وجہ سے اس کی عزت
کریں۔عورت کوشوہر کا تنک مزاج اور جھگڑالو ہونا بھی پسند نہیں۔عورت اپنے شوہر کو
ایک پرمزاح شخص کے روپ میں بھی دیکھنا پسند کرتی ہے۔مگر ایسا مزاح کہ جس میں
سنجیدگی بھی ہو۔ مزاح میں بے باکی اتنی نہ ہو کہ وہ بے شرمی اور بے حیائی کہلانے
لگے۔
عورت کی ایک اور بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کا شوہر
اسے وقت بھی دے۔ یعنی اس سے گفتگو کرنے کے لیے کوئی وقت نکالے ۔ اگرچہ گفتگو کا
کوئی خاص ایجنڈا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ عام بات چیت ضرور ہونی چاہیے۔ عورت اپنی
تعریف بھی چاہتی ہے۔ خصوصاً اپنے شوہر سے اپنی تعریف سننا اسے بہت پسند ہے۔چنانچہ
ایسا شوہر ہونا چاہیے جو اس کے کاموں کو سراہے نہ کہ بے جا تنقید کرے۔
بیوی مفاہمت اور اتفاق رائے بھی چاہتی ہے۔ بیوی کی
دلی چاہت ہوتی ہے کہ شوہر کی طرف سے ایسی انڈر سٹینڈنگ کا مظاہرہ ہونا چاہیے کہ
دیکھنے والے حیران رہ جائیں کہ وہ یہ کہے بغیر نہ رہ سکےں کہ دیکھو دونوں ایک
دوسرے کو کتنا سمجھتے ہیں۔
پھرہر بیوی ویک اینڈ اپنے شوہر کے ساتھ گزارنا پسند
کرتی ہے۔ اس کی خواہش ہوتی کہ اس کا شوہر ہفتہ وار تعطیل اس کے پاس گزارے۔ کوئی
ایسا پروگرام طے کیا جائے کہ دونوں یہ وقت اکٹھے گزار سکیں اور اس دوران کوئی مخل
نہ ہو ۔شوہر کی طرف سے Kind Gestures بھی عورت کی خوہش ہوتی
ہے۔ عورت کی دلی خواہش ہوتی ہے اس کے شوہر کی طرف کوئی ایسا اشارہ کنایہ ایسا نہ
ہو جس سے اس کے دل کو ٹھیس پہنچے۔
شوہر سے محبت اور پیار چاہنا عورت کی سب سے بڑی
خواہش ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر عوت چاہتی ہے کہ اس کا شوہر اس سے پیار کرے۔
ماہرین کے مطابق محبت انسانی زندگی کے انتشار میں
فطرت جیسی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ محبت ایک ایساآسما نی شعلہ ہے جسے شادی شدہ جوڑے
جذب کرلیتے ہیں۔۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرد عورت کو ہم نے جوڑوں میں پیدا کیا ۔
ایک جگہ فرمایا کہ” میری نشانوں میں ایک یہ بھی نشانی ہے کہ میں نے تمہارے جوڑے
بنائے”۔تاکہ تمہیں آپس میں ملنے سے سکون حاصل ہو۔پھر یہ بھی کہا گیاکہ مرد عورت
انسانیت کے دو ٹکڑے ہیںیعنی ان ٹکڑوں کو عورت اور مرد کی صورت دی گئی ہے۔ ایک جگہ
پر عورت مرد کے تعلقات کا بتایا گیا ہے کہ “عورتیں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان
کے لئے لبا س ہو”۔یعنی مرد اور عورت ایک دوسرے کی محبت کے طلبگاررہیں ۔اور وہ اس
محبت کے رشتہ ازواج میں بندھے رہیں۔ایک جگہ ذکر ہے کہ” اس ذریعہ سے تم میں مودّت
پیدا کی گئی”۔مودّت محبت کو کہتے ہیں۔لیکن مودّت اور محبت میں ایک فرق ہے۔وہ یہ کہ
مودّت اس محبت کو کہتے ہیںجو دوسروں کو اپنے اندر جذب کرلینے کی طاقت رکھتی
ہے۔لیکن محبت میں یہ شرط نہیں۔
قارئین۔۔۔۔۔ اب آپ بھی بتائیں کہ کیا واقعی عورت
اپنے شوہر میں یہ خوبیاں دیکھنا چاہتی ہے ؟ یا ان کے علاوہ بھی کچھ ایسی باتیں ہیں
جو ہم تحر یر نہ کر سکے۔ ہمیں آپ کے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا۔
کیا یہ کهلا تضاد نہیں؟
وه فوج جس کے نوے ہزار مسلح فوجیوں کو بزدل هندو نے زنده گرفتار کر
لیا تها,
وه فوج جس کے تین سو جوانوں کوجنوبی وزیرستان میں صرف چند مجاهدین نے گرفتار کے
لیا تها ,وه فوج جس کے شہروں میں چند امریکی کمانڈوز گهس کر اپریشن سرانجام دے اور یہ ان کو روکنے کی جرات نہ کر سکے,
وه فوج جس کو امریکیوں نے سلالہ میں بهیڑ بکریوں کی طرح کاٹ دیا تها اور یہ صرف آنسو بہاتے رهے,
وه فوج جن کو قبائلی علاقوں میں طالبان کے خوف سے دن میں کئی بار اپنا یونیفارم (پتلون) بدلنا پڑتا هے,
وهی فوج جب کسی مسجد، کسی مدرسے..نہتے طالبات یا معصوم عوام پر حملہ آور ہوتی هے تو اس کا جوش و خروش دیکهنے کے لائق هوتا هے,
ابوجہل بھی رات کو چھپ کر حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کی قرات سنا کرتا تھا
ابوجہل بھی رات کو چھپ کر حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کی قرات سنا کرتا تھا
ابوجہل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ رات کو چھپ کر حضرت محمد صلی
ﷲ علیہ وسلم کی قرات سننے آیا. اسی طرح ابوسفیان ابن صخر اور اخنس بن شریق بھی.
ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی. صبح تک تینوں چھپ کر حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم سے
قرآن سنتے رہے. دن کا اجالا ہونے لگا تو واپسی میں ایک سنگھم پر تینوں کی ملاقات
ہوگئی. ہر ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم کیسے آئے تھے (جب بات کھلی) تو اب سب نے آپس
میں یہ معاہدہ کیا کہ ہم کو قرآن سننے کیلئے نہیں آنا چاہیے. کہیں ایسا نہ ہو کہ
ہمیں دیکھ کر قریش کے نوجوان بھی آنے لگیں اور آزمائش میں پڑجائیں. جب دوسری رات
آئی تو ہر ایک نے یہی گمان کیا کہ وہ دونوں نہیں آئے ہوں گے چلو قرآن سن لیں. غرض
یہ کہ صبح کے قریب تینوں کا سنگھم ہوا اور خلاف معاہدہ ہونے پر ایک دوسرے کو ملامت
کرنے لگا اور دوبارہ معاہدہ کرلیا کہ اب کے نہ جائیں گے. (سبحان ﷲ! قرآن اور وہ بھی
رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی زبان(مبارک ) سے، بھلا ان کو کب سونے دیتا تھا.) اور جب
تیسری رات آئی تو پھر تینوں حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے پھر صبح کے
وقت معاہدہ کرلیا کہ آئندہ سے تو ہرگز نہیں آئیں گے. اب اخنس بن شریق ،ابوسفیان بن
حرب کے پاس آیا اور کہنے لگا:
لے ابوخنطلہ !تمہاری کیا رائے ہے ؟ تم نے محمد صلی ﷲ علیہ وسلم سے جو قرآن سنا ، اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟
ابوسفیان کہنے لگا: اے ابو ثعبلہ ! ﷲ کی قسم میں نے جو باتیں سنی ہیں ، ان کو خوب پہنچانتا ہوں اور اس کا جو مطلب ہے اس کو بھی جانتا ہوں لیکن بعض ایسی باتیں سنی ہیں جن کا مقصد اورمعنی نہ سمجھ سکا. تو اخنس نے کہا: ﷲ کی قسم میری بھی یھی حالت ہے. پھر اخنس وہاں سے چل کر ابوجہل کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابولحکم !! محمد صلی ﷲ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اور تم نے کیاسنا ہے؟ تو ابوجہل نے کہا : ہم اور بنوعبد مناف مقام شرف کے حاصل کرنے میں ہمیشہ دست و گریباں رہے ہیں. انہوں نے دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں. انہوں نے خیر و سخاوت کی تو ہم نے بھی کی. حتیٰ کہ ہم تو پاؤں جوڑے بیٹھے رہے او روہ کہنے لگے کہ ہمارے پاس ﷲ کا ایک پیغمبر ہے . اس پر آسمان سے وحی اترتی ہے تو اب ہم یہ بات کہاں سے لائیں. ﷲ کی قسم ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے اور اس کی پیغمبری کی تصدیق نہیں کریں گے. اخنس یہ سن کر چلا گیا.
افسوس کہ حق کو حق سمجھ کر بھی ایمان نہ لائے اور یوں ہی جھوٹی چودھراہٹ کے تحفظ میں جہنم کا سودا کر بیٹھے.
(تفسیر ابن کثیر)
( ''صحیح اسلامی واقعات ''، صفحہ نمبر 101-99)
لے ابوخنطلہ !تمہاری کیا رائے ہے ؟ تم نے محمد صلی ﷲ علیہ وسلم سے جو قرآن سنا ، اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟
ابوسفیان کہنے لگا: اے ابو ثعبلہ ! ﷲ کی قسم میں نے جو باتیں سنی ہیں ، ان کو خوب پہنچانتا ہوں اور اس کا جو مطلب ہے اس کو بھی جانتا ہوں لیکن بعض ایسی باتیں سنی ہیں جن کا مقصد اورمعنی نہ سمجھ سکا. تو اخنس نے کہا: ﷲ کی قسم میری بھی یھی حالت ہے. پھر اخنس وہاں سے چل کر ابوجہل کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابولحکم !! محمد صلی ﷲ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اور تم نے کیاسنا ہے؟ تو ابوجہل نے کہا : ہم اور بنوعبد مناف مقام شرف کے حاصل کرنے میں ہمیشہ دست و گریباں رہے ہیں. انہوں نے دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں. انہوں نے خیر و سخاوت کی تو ہم نے بھی کی. حتیٰ کہ ہم تو پاؤں جوڑے بیٹھے رہے او روہ کہنے لگے کہ ہمارے پاس ﷲ کا ایک پیغمبر ہے . اس پر آسمان سے وحی اترتی ہے تو اب ہم یہ بات کہاں سے لائیں. ﷲ کی قسم ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے اور اس کی پیغمبری کی تصدیق نہیں کریں گے. اخنس یہ سن کر چلا گیا.
افسوس کہ حق کو حق سمجھ کر بھی ایمان نہ لائے اور یوں ہی جھوٹی چودھراہٹ کے تحفظ میں جہنم کا سودا کر بیٹھے.
(تفسیر ابن کثیر)
( ''صحیح اسلامی واقعات ''، صفحہ نمبر 101-99)
علماء کی اپیل نظر اندار نہیں کر سکتے , حکومت مطالبات مان لے تو صلح ہو سکتی ہے : سربراہ تحریک طالبان پنجاب
چرچ ، قصہ خوانی بازار پر حملے کرنیوالے طالبان نہیں ہوسکتے ، نانگاپربت
حملے کا مقصد ڈرون حملوں کا درد غیرملکیوں تک پہنچانا تھا بھارت نے پاکستان
پر حملہ کیا تو ہم حکومت اور فوج کیساتھ نہیں ہونگے بلکہ عوام سے مل کر
ملک کا دفاع کرینگے ،عصمت اللہ معاویہکراچی (دنیا نیوز، ایجنسیاں )کالعدم
تحریک طالبان پاکستان پنجاب شاخ اور جنود الحفصہ کے سربراہ عصمت اللہ
معاویہ نے کہا ہے کہ امن کیلئے جید علما کی اپیل کسی صورت نظر انداز نہیں
کر سکتے ، حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کر لے تو صلح ہو سکتی ہے ۔اصولوں کی
بنیاد پر حکومت سے مذاکرات کر سکتے ہیں،شرائط میڈیا کے ذریعے پیش ہوسکتی
ہیں نہ ٹاک شوز کے ذریعے مذاکرات کئے جاسکتے ہیں،بھارت نے پاکستان پر حملے
کی جرأت کی تو ہم حکومت اور فوج کیساتھ نہیں ہونگے بلکہ عوام سے مل کر ملک
کا دفاع کرینگے ، بھتہ لینے ، چرچ ، قصہ خوانی بازار پر حملے کرنیوالے
طالبان نہیں ہوسکتے ، نانگاپربت حملے کا مقصد ڈرون حملوں کا درد غیرملکیوں
تک پہنچانا تھا۔ عصمت اللہ معاویہ نے میڈیا کوجاری کئے گئے اپنے ویڈیو
پیغام میں کہا شریعت کے مطابق اصول وضع کرنے کے لئے حکومت جید علما ئکی
کمیٹی بنائے تاکہ شریعت نافذ ہوسکے ۔ چرچ اور قصہ خوانی بازار پرحملے
طالبان کو بدنام کرنے کے لئے کئے گئے ۔عصمت اﷲ معاویہ نے کہا میڈیا کا اپنی
طرف سے مذاکرات کیلئے شرائط پیش کرنا صحافتی اصولوں کے منافی ہے ’ آزاد
خارجہ پالیسی، امریکی تسلط سے آزادی’ ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ سمیت
وہ تمام مسائل جن کی وجہ سے یہ جنگ چھڑی ہے اگر حکومت حل کر دے تو بالکل
صلح ہوسکتی ہے ’پنچابی طالبان کا نعر ہ سیکولر قوتیں لگا تی ہیں’ ہماری
جماعت سند ھ ’ بلو چستان ، گلگت ، بلتستان ، خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر
میں موجو د ہے ۔ انہوں نے کہا ہم نے اب تک جو بھی اقدامات کئے ہیں وہ اسلام
اور ملک کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کئے ہیں ہم اس مقصد کو سامنے رکھ کر
آگے بڑھ رہے ہیں جس مقصد کیلئے پاکستان حاصل کیا گیا تھا۔ پاکستان کے قیام
کا مقصد شریعت محمدی کا نفاذ ہے اور اسی سوچ نے ہمیں پنجاب ، سند ھ ، بلو
چستان ، خیبر پختونخوااور قبائلی علا قوں میں اکٹھا کیا ہے اور ہم آگے بڑھ
رہے ہیں ۔ عصمت اﷲمعاویہ نے کہا ہم نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا اور
اب بھی اگر حکومت سنجیدگی سے آغاز کرتی ہے تو پھر ہم اپنی شرائط مذاکرات کی
میز پر رکھیں گے ۔ ہم مذاکرات کے ہر مرحلہ میں قوم کو اعتماد میں لینگے جس
قوم کی آزادی کے لئے ہم نے اپنے گھر بار چھوڑے ہیں ہم اسے نظر انداز نہیں
کر سکتے ۔ عصمت اﷲ معاویہ نے کہا کہ جنود الحفصہ لال مسجد آپر یشن کے بعد
وجو د میں آئی تھی ۔ مو لانا غازی عبد الرشید نے بے حیائی اور عریانی کے
بڑھتے ہو ئے سیلاب کے خلاف آواز اٹھائی مگر حکومت نے امریکی دباؤ پر لال
مسجد آپریشن کیا ۔ انہوں نے کہا شریعت کا نفاذ کو ئی بہت بڑا کام نہیں اگر
حکومت خلوص نیت سے ملک کے جید علماء کی کمیٹی بنائے اور یہ کمیٹی ملک کیلئے
شریعت کے مطابق اصول وضع کردے تو ملک میں شریعت نافذ ہو سکتی ہے ۔عصمت اﷲ
معاویہ نے کہا اگر ڈرون حملے بند نہیں ہوتے اور ان سے شام سے لے کر بر ما
تک مسلما نوں کا قتل عام جاری رہتا ہے تو ہم کسی صور ت میں بھی خامو ش نہیں
رہ سکتے اور ہم بھی اپنے اسی طر ح حملے جار ی رکھیں گے ۔ ہندوستان اور
افغانستا ن سے فنڈنگ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے عصمت اﷲمعاویہ نے کہا
ہمیں اگر ہماری اپنی ایجنسیاں نہیں خرید سکیں تو بھارت اور افغانستان کی
ایجنسیاں کیسے خرید سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہم تو یہاں پھنسے ہوئے ہیں اگر
حکومت ہمیں راستہ دے تو دنیا دیکھے گی ہم بھارت کے اندر جا کر بھی کس طرح
جنگ لڑ سکتے ہیں ۔
اسلام آباد: خاندان کے 5 افراد کا قاتل مقتولہ کا بھانجا نکلا
اسلام آباد میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کا قاتل مقتولہ کا بھانجا
نکلا، جائیداد کی خاطر کرائے کے قاتلوں کی مدد سے واردات کی، ملزم نے
اعتراف جرم کر لیا۔اسلام آباد: (دنیا نیوز) اسلام آباد پولیس نے ملزم سکندر
ضیاء کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔ ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا
کہ اس نے ایک مطلقہ خاتون سے منگنی کی تھی۔ اس کا خالو مقتول عامر اللہ خان
اس رشتے کے خلاف تھا۔ ملزم نے بتایا کہ اس کے سسرالیوں کی جانب سے اسلام
آباد میں ایک مکان لے کر دیئے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا تو اس نے
خالوعامر اللہ اور اس کے اہل خانہ کو قتل کرکے ان کی جائیداد پر قبضہ کرنے
کا منصوبہ بنایا۔ اس نے قتل کے لئے پشاور سے کرائے کے قاتل حاصل کئے۔
واردات کے روز وہ شام چار بجے عامر اللہ کے گھر میں داخل ہوئے۔ تمام اہل
خانہ کو باندھ کر گلے میں پھندا ڈال کر قتل کیا۔ ملزم نےبتایا کہ ملازم
اصغر بھی واردات میں شامل تھا جسے راز افشاء ہونے کے خوف سے قتل کیا
سوویت دھمکی اور خطرناک دشمن
عبدالستار ہاشمی
عالمی برادری میں تعلقات ہمیشہ عوام کے وسیع تر مفادات میں بنائے اور بگاڑے جاتے ہیں۔آج کے دوست کل کے دشمن ہوتے ہیں۔کبھی عراق اور امریکہ میں بہت بنتی تھی، پھر کیا ہو ا؟ صدام کو پھانسی کس نے دی؟۔ایران ،امریکہ کے مضبوط تعلقات سے کون آگاہ نہیں۔شاہ ِایران کے دور میں ایران کو امریکہ کا دوسرا گھرکہا جاتا تھا۔پھر وہاں کے انقلاب نے سارا منظر ہی بدل دیا۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے ۔ایک طویل مدت کے بعد برف پگھلی اور حیرت انگیز پیش رفت ہوئی۔ ایران کے وزیر خارجہ ظریف اور امریکہ کے وزیر خارجہ کیری کے مابین چھ سال بعد مذاکرات ہوئے۔ان مذاکرات سے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان بلکہ یورپ اور ایران کے درمیان بھی نرمی پیدا ہونے کی اُمید نظر آنے لگی۔آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ مذاکرات باہمی تعلقات اور علاقائی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور اس قربت سے کس قسم کے نتائج برآمد ہونگے ؟ صدر براک اوبا ما اور ایران کے صدر حسن روحانی میں ملاقات ایک ریڈیکل پیش رفت ہے کیونکہ امریکہ اور ایران 34 سال سے ایک دوسرے کے جانی دشمن چلے آ رہے ہیں۔ ایران نے امریکہ کو بڑا شیطان قرار دیا تھا جبکہ امریکہ ایران کو ایک دہشت گرد ملک کی نظر سے دیکھتاچلا آیا ہے۔اس دشمنی نے دونوں ممالک کے معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا ۔امریکی ایران کو’’ سوویت دھمکی‘‘ اور ایرانی امریکہ کو’’ خطرناک دشمن ‘‘کی نظر سے دیکھتے تھے۔امریکہ اور اس کے حلیف ملک اسرائیل نے ایران کی مذہبی حکومت کا تختہ اُلٹانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں اور ایران نے بھی اسرائیل سمیت امریکہ کے اتحادی ممالک کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔اس دوران جو اہم مسئلہ سامنے آیا وہ ایران کی طرف سے ایٹمی اسلحے کے پروگرام کو جاری رکھنے سے متعلق تھا۔ امریکہ اور ایران کی کشیدگی سے دونوں فریقوں کو ہی نقصان پہنچا اور کسی بھی فریق کو اس جھڑپ میں برتری حاصل نہیں ہو سکی ۔نہ امریکہ ایرانی نظام کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکا اور نہ ہی ایران اسرائیل اور امریکہ کو علاقے سے دور کرسکا ۔ امریکہ کی شدید پابندیوں کے باوجود ایران اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور دوسری طرف ایران کی تمام تر کوششوں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل علاقے میں اپنی قوت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کی کشمکش سے علاقے کو سخت نقصان پہنچا او رپورا خطہّ متاثر ہوا ۔اس کے علاوہ ایران ،عراق جنگ ،عراق پر امریکی قبضے ،فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے اور شام کی خانہ جنگی بھی خطے کی سلامتی کیلئے بہت تشویشناک ہے۔اِن جنگوں نے خطے کوہلا کر رکھ دیا ہے ، بعض ممالک تو جنگ کی آگ میں سُلگ رہے ہیں،شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔امریکہ اور حلیف ممالک شامی مخالفین کی جبکہ ایران اور روس اسد انتظامیہ کی حمایت کر رہے ہیں۔خانہ جنگی کی وجہ سے شام میں خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ شام میں حالات کے خطرناک صورتحال اختیار کر جانے کے بعدتمام ممالک نے مزید خونریزی سے بچنے کے لیے اس مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر متفق ہیں۔امریکہ اور روس نے پہلے ا قدام کے طور پر ایک معاہدے پر دستخط کئے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی شام کے بارے میں ایک فیصلہ کیاجس کے نتیجے میں صدر اوباما اور صدر روحانی کے درمیان تاریخی نوعیت کے مذاکرات ہوئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان نئی قربت کو بڑھانے میں اوباما ا ور روحانی کی سیاسی بصیرت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ صدر اوباما سابق صدر بش سے کہیں زیادہ امن پسند اور صدر روحانی احمدی نژاد سے کہیں زیادہ اعتدال پسند ہیں۔ دونوں ممالک نے نیک نیتی کا مظاہرہ کیا تو تعلقات میں ضرور بہتری نظر آئے گی۔بنیادی مسائل حل ہو جانے کے بعد سفارتی ،سیاسی اور تجارتی تعلقات کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔تعلقات بہتر ہونے سے ایران کے ایٹمی پروگرام اور مسئلہ فلسطین حل کیا جا سکے گا اورامریکہ اور ایران کی قربت سے علاقائی ممالک سکھ کا سانس لیں گے۔جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ احمد داؤد اولو نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران اختلافات کے خاتمے سے ترکی اور ایران کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا۔بعض دعوؤں کے برعکس ترکی کی علاقے میں اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔ترکی، ایران اور امریکہ اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ٭…٭…٭
عالمی برادری میں تعلقات ہمیشہ عوام کے وسیع تر مفادات میں بنائے اور بگاڑے جاتے ہیں۔آج کے دوست کل کے دشمن ہوتے ہیں۔کبھی عراق اور امریکہ میں بہت بنتی تھی، پھر کیا ہو ا؟ صدام کو پھانسی کس نے دی؟۔ایران ،امریکہ کے مضبوط تعلقات سے کون آگاہ نہیں۔شاہ ِایران کے دور میں ایران کو امریکہ کا دوسرا گھرکہا جاتا تھا۔پھر وہاں کے انقلاب نے سارا منظر ہی بدل دیا۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے ۔ایک طویل مدت کے بعد برف پگھلی اور حیرت انگیز پیش رفت ہوئی۔ ایران کے وزیر خارجہ ظریف اور امریکہ کے وزیر خارجہ کیری کے مابین چھ سال بعد مذاکرات ہوئے۔ان مذاکرات سے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان بلکہ یورپ اور ایران کے درمیان بھی نرمی پیدا ہونے کی اُمید نظر آنے لگی۔آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ مذاکرات باہمی تعلقات اور علاقائی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور اس قربت سے کس قسم کے نتائج برآمد ہونگے ؟ صدر براک اوبا ما اور ایران کے صدر حسن روحانی میں ملاقات ایک ریڈیکل پیش رفت ہے کیونکہ امریکہ اور ایران 34 سال سے ایک دوسرے کے جانی دشمن چلے آ رہے ہیں۔ ایران نے امریکہ کو بڑا شیطان قرار دیا تھا جبکہ امریکہ ایران کو ایک دہشت گرد ملک کی نظر سے دیکھتاچلا آیا ہے۔اس دشمنی نے دونوں ممالک کے معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا ۔امریکی ایران کو’’ سوویت دھمکی‘‘ اور ایرانی امریکہ کو’’ خطرناک دشمن ‘‘کی نظر سے دیکھتے تھے۔امریکہ اور اس کے حلیف ملک اسرائیل نے ایران کی مذہبی حکومت کا تختہ اُلٹانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں اور ایران نے بھی اسرائیل سمیت امریکہ کے اتحادی ممالک کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔اس دوران جو اہم مسئلہ سامنے آیا وہ ایران کی طرف سے ایٹمی اسلحے کے پروگرام کو جاری رکھنے سے متعلق تھا۔ امریکہ اور ایران کی کشیدگی سے دونوں فریقوں کو ہی نقصان پہنچا اور کسی بھی فریق کو اس جھڑپ میں برتری حاصل نہیں ہو سکی ۔نہ امریکہ ایرانی نظام کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکا اور نہ ہی ایران اسرائیل اور امریکہ کو علاقے سے دور کرسکا ۔ امریکہ کی شدید پابندیوں کے باوجود ایران اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور دوسری طرف ایران کی تمام تر کوششوں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل علاقے میں اپنی قوت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کی کشمکش سے علاقے کو سخت نقصان پہنچا او رپورا خطہّ متاثر ہوا ۔اس کے علاوہ ایران ،عراق جنگ ،عراق پر امریکی قبضے ،فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے اور شام کی خانہ جنگی بھی خطے کی سلامتی کیلئے بہت تشویشناک ہے۔اِن جنگوں نے خطے کوہلا کر رکھ دیا ہے ، بعض ممالک تو جنگ کی آگ میں سُلگ رہے ہیں،شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔امریکہ اور حلیف ممالک شامی مخالفین کی جبکہ ایران اور روس اسد انتظامیہ کی حمایت کر رہے ہیں۔خانہ جنگی کی وجہ سے شام میں خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ شام میں حالات کے خطرناک صورتحال اختیار کر جانے کے بعدتمام ممالک نے مزید خونریزی سے بچنے کے لیے اس مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر متفق ہیں۔امریکہ اور روس نے پہلے ا قدام کے طور پر ایک معاہدے پر دستخط کئے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی شام کے بارے میں ایک فیصلہ کیاجس کے نتیجے میں صدر اوباما اور صدر روحانی کے درمیان تاریخی نوعیت کے مذاکرات ہوئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان نئی قربت کو بڑھانے میں اوباما ا ور روحانی کی سیاسی بصیرت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ صدر اوباما سابق صدر بش سے کہیں زیادہ امن پسند اور صدر روحانی احمدی نژاد سے کہیں زیادہ اعتدال پسند ہیں۔ دونوں ممالک نے نیک نیتی کا مظاہرہ کیا تو تعلقات میں ضرور بہتری نظر آئے گی۔بنیادی مسائل حل ہو جانے کے بعد سفارتی ،سیاسی اور تجارتی تعلقات کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔تعلقات بہتر ہونے سے ایران کے ایٹمی پروگرام اور مسئلہ فلسطین حل کیا جا سکے گا اورامریکہ اور ایران کی قربت سے علاقائی ممالک سکھ کا سانس لیں گے۔جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ احمد داؤد اولو نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران اختلافات کے خاتمے سے ترکی اور ایران کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا۔بعض دعوؤں کے برعکس ترکی کی علاقے میں اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔ترکی، ایران اور امریکہ اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ٭…٭…٭
طالبان سے مذاکرات میں تاخیر ملکی مفاد میں نہیں، عمران
وفاق دہشت گردی ختم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو گیالاہور(آئی
این پی ) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات
میں ایک لمحے کی تاخیر بھی ملکی مفاد میں نہیں، دہشت گردی کا خاتمہ اور
ملک میں قیام امن وفاق کی ذمہ داری ہے لیکن وفاق اسے پورا کرنے میں ناکام
ہے ،ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کیا چاہتا ہے ہمیں اس سے غرض
نہیں، طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور تمام جماعتوں
نے اے پی سی میں وفاقی حکومت کو طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن خیبر
پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت صوبائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے اور
امن کیلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت فی
الحال مکمل طور پر ناکام ہے اور عوام بھی ان سے نجات کیلئے دعائیں مانگ رہے
ہیں۔
’’غاروں کا قصاب ‘‘ایرش پریبکے
فائزہ نذیر احمد
جنگیں ہمیشہ تباہی کا پیغام لے کر آتی ہیںاور جنگجو ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جیسے ان کو خود موت یاد نہ ہو لیکن بہرحال موت کا دن مقرر ہے اور ہر ایک نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میںظلمتوں کے پہاڑ ڈھانے والا ایرِش پریبکے گذشتہ دنوں روم میں موت کے منہ میں چلا گیا۔ اس کی عمر 100 برس تھی۔ وہ اٹلی میں پندرہ برس نظر بند رہا۔ اطالوی ملٹری ٹربیونل نے پریبکے کے خلاف الزامات کی سماعت 1996ء میں شروع کی تھی۔ 1998ء میں اپیل کی سماعت پر بھی اس نے اپنی ظالمانہ کارروائیوں پر پچھتاوے کا اظہار کرنے سے انکار کیا تھا ۔ایرش پریبکے کو دوسری عالمی جنگ میں قتل عام میں ملوث ہونے پر 1998ء میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس پر الزام ثابت ہوا تھا کہ وہ مارچ 1944ء میں روم میں آرڈیٹینے کے غاروں میں ہونے والے قتل عام میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں 75 یہودیوں سمیت 335 افراد مارے گئے تھے۔ پریبکے کو ’’آرڈیٹینے کے غاروں کا قصاب‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔اس نے آرڈیٹینے کے غاروں میں لوگوں کو ان کی گردنوں میں گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔پریبکے خانہ جنگی کے بعد فرار ہو کر ارجنٹائن گیا۔ اس نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا کہ وہ تو صرف احکامات بجا لاتا رہا۔اس نے اٹلی کے ملٹری ٹربیونل کے سامنے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ’’حکم براہ راست برلن میں ہٹلر کی جانب سے ملتے تھے۔ ان سے انکار کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف ایس ایس کارروائی کر سکتی تھی۔‘‘عدالت میں اُس نے کہا ’’اگر میں اس خوفناک عمل کو روک سکتا تو روک دیتا۔ میری موت سے ان معصوموں کی جانیں نہیں بچتیں۔‘‘طویل العمری اور خراب صحت کی وجہ سے اس کی عمر قید کو نظر بندی میں تبدیل کر دیا گیا تھا جو وہ اپنے وکیل پاؤلو یکینی کے گھر پر کاٹ رہا تھا۔اپریل 2011ء میں اٹلی کے ایک میگزین اوگی نے اس کی کچھ تصاویر شائع کر دی تھیں جن میں اس سابق نازی اہلکار کو ایک ریستوران میں دوستوں کے ساتھ بیٹھے، موٹر سائیکل چلاتے اور ایک سپر مارکیٹ میں خریداری کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ایک اطالوی میگزین میں شائع ہونے والی تصویروں میں پریبکے کو آزاد گھومتے دکھانے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔آخر کار موت کا یہ سوداگر خود ہی اس کا شکار ہو گیا۔یہ عبرت کا نشان ہے اور ظالموں کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
جنگیں ہمیشہ تباہی کا پیغام لے کر آتی ہیںاور جنگجو ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جیسے ان کو خود موت یاد نہ ہو لیکن بہرحال موت کا دن مقرر ہے اور ہر ایک نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میںظلمتوں کے پہاڑ ڈھانے والا ایرِش پریبکے گذشتہ دنوں روم میں موت کے منہ میں چلا گیا۔ اس کی عمر 100 برس تھی۔ وہ اٹلی میں پندرہ برس نظر بند رہا۔ اطالوی ملٹری ٹربیونل نے پریبکے کے خلاف الزامات کی سماعت 1996ء میں شروع کی تھی۔ 1998ء میں اپیل کی سماعت پر بھی اس نے اپنی ظالمانہ کارروائیوں پر پچھتاوے کا اظہار کرنے سے انکار کیا تھا ۔ایرش پریبکے کو دوسری عالمی جنگ میں قتل عام میں ملوث ہونے پر 1998ء میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس پر الزام ثابت ہوا تھا کہ وہ مارچ 1944ء میں روم میں آرڈیٹینے کے غاروں میں ہونے والے قتل عام میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں 75 یہودیوں سمیت 335 افراد مارے گئے تھے۔ پریبکے کو ’’آرڈیٹینے کے غاروں کا قصاب‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔اس نے آرڈیٹینے کے غاروں میں لوگوں کو ان کی گردنوں میں گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔پریبکے خانہ جنگی کے بعد فرار ہو کر ارجنٹائن گیا۔ اس نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا کہ وہ تو صرف احکامات بجا لاتا رہا۔اس نے اٹلی کے ملٹری ٹربیونل کے سامنے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ’’حکم براہ راست برلن میں ہٹلر کی جانب سے ملتے تھے۔ ان سے انکار کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف ایس ایس کارروائی کر سکتی تھی۔‘‘عدالت میں اُس نے کہا ’’اگر میں اس خوفناک عمل کو روک سکتا تو روک دیتا۔ میری موت سے ان معصوموں کی جانیں نہیں بچتیں۔‘‘طویل العمری اور خراب صحت کی وجہ سے اس کی عمر قید کو نظر بندی میں تبدیل کر دیا گیا تھا جو وہ اپنے وکیل پاؤلو یکینی کے گھر پر کاٹ رہا تھا۔اپریل 2011ء میں اٹلی کے ایک میگزین اوگی نے اس کی کچھ تصاویر شائع کر دی تھیں جن میں اس سابق نازی اہلکار کو ایک ریستوران میں دوستوں کے ساتھ بیٹھے، موٹر سائیکل چلاتے اور ایک سپر مارکیٹ میں خریداری کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ایک اطالوی میگزین میں شائع ہونے والی تصویروں میں پریبکے کو آزاد گھومتے دکھانے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔آخر کار موت کا یہ سوداگر خود ہی اس کا شکار ہو گیا۔یہ عبرت کا نشان ہے اور ظالموں کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
پہلا آپریشن
ماہرین آثار قدیمہ کو کم از کم 10,000پرانی کھوپڑیاں ملی ہیں جن کے اندر ڈرلوں سے سوراخ کئے گئے تھے ۔ چونکہ سوراخوں کے گرد ہڈیوں کی نشوونما ہو چکی تھی ، اس لئے واضح ہے کہ زندگی میں ہی سوراخ کئے گئے ۔ ماہرین کو یقین ہے کہ trepanningیہ ٹیکنیک پہلا آپریشن تھا ۔
How to remove Extra SIMs registered against your CNIC
1. Click the link online Sim Verification System and obtain count of SIMs against your CNIC.
2. If count of SIMs of any mobile company is found in excess of the
actual SIMs in your use, visit link of that particular company listed
below
For Mobilink Click Here osis668cf@mobilinkworld.com
For Ufone Click Here ufoneoverseas668@ufonegsm.net
For Telenor Click Here telenoroverseas668@telenor.com.pk
For Warid Click Here overseas668@waridtel.com
For Zong Click Here customerservices@zong.com.pk
3.
Download relevant form from company’s website. Fill the form and email
scanned filled form along with scanned copy of NICOP (both sides)/CNIC
and passport at email address given at company’s website
4. Company will give a reference number to the complaint and your NICOP/CNIC will be used for the purpose.
5. Extra SIMs registered against your CNIC shall be removed within 24 hours of the receipt of your complaint.
6. Database at PTA’s website will be updated after 45 days. You can confirm removal of extra SIMs by revisiting after 45 days.
::::: (١)پیدائش سے وفات تک کے مراحل :::::
::::: (١)پیدائش سے وفات تک کے مراحل :::::
::: نام و نسب ::: رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کا شجرہ نسب یوں ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد
مناف بن قصی بن کلاب ، بن مُرَّہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فِھر (اِس فِھر کا لقب
قُریش تھا اور قُریشی قبیلہ اِسی سے منسوب ہے ، اس کے آگے سلسلہ نسب یوں کہ فِھر )
بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خُزیمہ بن مدرکہ بن اِلیاس بن مضر بن نزار بن معد بن
عدنان ، جو کہ یقیناً اِسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں(صحیح سیرۃ النبویہ ) ،
::: والدہ کی طرف سے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا شجرہ نسب ::: آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرۃ بن
قصی بن کلاب ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی والدہ کا شجرہ نسب اُن
کے والد عبداللہ کے ساتھ قصی بن کلاب پر جا ملتا ہے ، ::: تاریخ پیدائش ::: مؤرخین کی اکثریت کا کہنا ہے ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پیدائش مُبارک عام الفیل یعنی جِس سال ابرہہ ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوا تھا اُس سال میں ہوئی ، اور تاریخ پیدائش آٹھ ربیع الاول ہے (مؤطا مالک) اور پیدائش کا دِن سوموار ہے (صحیح مُسلم)۔( مزید تفصیل کے لیے کتاب ،عید میلاد النبی اور ہم ، کا مطالعہ کیجیئے)۔
::: بچپن و پرورش ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے والد عبداللہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے ، عرب رواج کے مُطابق دودھ پلائی کے لیے بنی سعد بھیجا گیا اور حلیمہ سعدیہ نے اُنہیں دُودھ پِلایا ، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے چار سال بسر فرمائے ، اور وہیں رہنے کے دوران اُن کے سینہ مُبارک کے کھولے اور دھوئے جانے کا واقعہ پیش آیا ، اِس واقعہ کے بعد حلیمہ سعدیہ اُن کو واپس مکہ لے آئیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم چھ سال کے ہوئے تو اُن کی والدہ اُن کو لے کر اُن کے ننیھال مدینہ روانہ ہوئیں اور راستہ میں الابواء کے مُقام پر وفات پا گئیں ، پھر اُن کی خادمہ اُم ایمن نے اُن کی نگہداشت و پرورش کی اور اُن کے دادا عبدالمطلب نے کفالت کی، دو سال گذرنے کے بعد عبدالمطلب بھی فوت ہو گئے، اِس کے بعد عام تاریخی روایات کے مطابق اُن صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے اُن کی کفالت و پرورش کی اور اپنی زندگی کے آخر تک اُن کے مدد گار رہے ،
::: پہلا نکاح ::: پچیس سال کی عُمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا نکاح اُم المومنین خدیجہ بنت الخویلد رضی اللہ عنہا سے ہوا ، جِن میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چار بیٹیاں اوردو بیٹے عطاء فرمائے ، خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پچیس سال بسر فرمائے ۔
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ::: رقیہ ، زینب ، اُم کلثوم ، فاطمہ ، القاسم ، عبداللہ ، اِبراہیم ، رضی اللہ عنہم اجمعین ، آخری بیٹے اِبراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔
::: وحی کا آغاز ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کواللہ کی طرف سے تنہائی کی طرف مائل کیا گیا تو وہ غارِ حراء میں جانے لگے اور چالیس سال کی عُمر میں اُن پر اللہ نے وحی نازل فرمائی ( اقرَا بِاسمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ ) ۔
::: دعوتِ اِسلام کا آغاز ::: اللہ کا حُکم ملنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اللہ کی توحید کی دعوت کا آغاز فرمایا تو سب سے پہلے اللہ کے دِین کو ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ نے قُبُول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دعوتِ توحید اور خدمتِ اِسلام میں مدد گار ہوئے اور اُن کے ذریعے عُثمان ، طلحہ ، اور سعد رضی اللہ عنہم اجمعینُ پہلے اِسلام لانے والوں میں سے ہوئے ، خواتین میں سب سے پہلے اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے اِسلام قُبُول کیا ، اور بچوں میں سے سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہُ نے ، اُن کی عُمر اُس وقت آٹھ سال تھی ۔
::: چند ہی دِنوں میں ہر طرف سے اُنکی مُخالفت شروع ہو گئی اور سختیاں کی جانے لگِیں، یہاں تک سُمیہ اور اُنکے خاوندیاسر رضی اللہ عنہما کو اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا گیا ، یہ دونوں بالترتیب اِسلام کے پہلے شہید ہیں ، جب مُسلمانوں پر ظُلم و ستم بہت بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُنہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت فرمائی تو اسی ٨٠ مَرد اور ایک خاتون نے ہجرت کی ،
::: نبوت کے دسویں سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا ابو طالب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بڑے مددگار تھے ، اِسلام قُبُول کیئے بغیر فوت ہو گئے ، اور تھوڑے ہی عرصہ بعد اُن کی دوسری بڑی مددگار و غم خوار اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنھا فوت ہو گئیں ،
::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم طائف تشریف لے گئے وہاں بھی دِین حق کی دعوت دینے کی پاداش میں ظُلم و جور کا سامنا کرنا پڑا ، واپس مکہ المکرمہ تشریف لائے اور مطعم بن عدی کی حفاظت میں ٹھہرے ۔
::: اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو سفر معراج کروایا گیا ، اور بُراق پر سوار کروا کر مسجد الحرام سے مسجد الاقصی لے جایا گیا جہاں اُنہوں نے سب نبیوں کی اِمامت کروائی ، اور وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے واپس آ کر اپنے اِس سفر کی خبر دِی تو سب نے انکی بات کو جُھٹلا دِیا ، صِرف ابو بکر رضی اللہ عنہُ نے تصدیق کی اور اسی وجہ سے اُن کو ''' الصدیق ''' لقب دِیا گیا ،
::: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے دِین کی دعوت کے لیے مختلف مواقع (میلوں ، اجتماعی بازاروں ، منڈیوں ) میں اکٹھے ہونے والے قبیلوں کے پاس تشریف لے جاتے تو ابو لھب اُن لوگوں کو کہتا کہ ، یہ جادُوگر ہے ، یہ جھوٹا ہے اِس کی بات مت سُننا ، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ملنے اور اُن سے بات کرنے سے دُور رہتے ، یہاں تک نبوت کے گیارویں سال میں حج کے لیے آنے والے قبیلہ خزرج کے ایک وفد کی اُن صلی اللہ علیہ وسلم سے مُلاقات ہوئی ، اور اللہ نے اُن لوگوں کے دِل اِسلام کے لیے کھول دیے اور وہ لوگ مُسلمان ہو گئے اور اِسلام کی دعوت لے کر مدینہ المنورہ(جِس کا نام اُس وقت تک ''یثرب ''تھا جِسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے تبدیل فرما دِیا لیکن افسوس کہ کچھ لوگ اب تک اُسے اُسی پرانے نام سے ذِکر کرتے ہیں) واپس چلے گئے اور اُن کی دعوت پر اللہ نے کئی اوروں کو مُسلمان بنا دِیا ،
::: نبوت کے بارہویں سال میں مدینہ سے مُسلمانوں کے گروہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جِسے بیعتِ عُقبہ الا ُولیٰ یعنی پہلی بیعت عُقبہ کہا جاتا ہے، اور اُن کے ساتھ اِسلام کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے سفیر'' مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہُ ''جنہیں'' مُصعب الخیر'' بھی کہا جاتا ہے کو بھیجا گیا ، اور اُن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے کئی کو جہنم سے نجات دی اور اپنے دِین میں داخل فرمایا ، ،
::: اگلے سال مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہُ کے ساتھ کئی مسلمان مدینہ سے مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ، اِس بیعت کو بیعت عُقبہ الثانیہ یعنی دُوسری بیعت عُقبہ کہا جاتا ہے ،( مُصعب الخیر رضی اللہ عنہُ کے بارے میں ایک مضمون''' اپنے مثالی شخصیت چنیئے '''میں بھی شامل ہے اور الرسالہ مُحرم ١٤٢٩ ہجری میں میں بھی )
::: اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو مدینہ ہجرت کی اِجازت مرحمت فرمائی تو سب مُسلمان ہجرت کر گئے یہاں تک مکہ میں صِرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور علی رضی اللہ عنہما رہ گئے ،
::: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت عطاء فرمائی تو نبوت کے تیرہویں (١٣) سال میں ستائیس (٢٧) صفر کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہُ کے ساتھ اپنا گھر چھوڑا اور مدینہ روانہ ہو گئے ،
::: اور بارہ ربیع الاول ، سوموار کے دِن ضُحیٰ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قُباء میں داخل ہوئے ، انصار نے اپنے تمام اسلحہ کے ساتھ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا اِستقبال کیا ،
::: انصار سے سب سے پہلا خطاب ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے سب سے پہلا خطاب فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا (یایُّہا النَّاس اَفشُوا السَّلَامَ وَاَطعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا بِاللَّیلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ تَدخُلُوا الجَنَّۃَ بِسَلَامٍ )( اے لوگو سلام پھیلاؤ ، اور (بھوکوں کو) کھانا کِھلاؤ ، اور رشتہ داریوں کو جوڑے رکھو ، اور نماز پڑہو جب کہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں، سلامتی کے ساتھ جنّت میں داخل ہو جاؤ گے) سنن ابن ماجہ /کتاب اِقامۃ الصلاۃ و السنّۃ فیھا / باب ١٧٤،
::: اور قُباء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسلام کی سب سے پہلی مسجد تعمیر فرمائی ، اور پھر مدینہ تشریف لے گئے ،
::: مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سب پہلے مسجدِ نبوی تعمیر فرمائی اور مسجد کی مشرقی جانب اپنی بیگمات کے لیے کمرے بنوائے ،
::: مہاجرین اور انصار میں بھائی چارہ کروایا ، یہودیوں کے قبیلوں بنو النضیر ، بنو القِینُقاع ، اور بنو قُریظہ کے ساتھ معاہدے فرمائے اور اِن کو باقاعدہ لکھوایا ،
::: اسی سال شعبان میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے اور زکوۃِ فِطر (فِطرانہ ) فرض فرمایا ، اور رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی خواہش کے مُطابق مسجد الحرام مکہ المکرمہ کو قبلہ مقرر فرمایا ،
::: معرکہ بدر ::: ہجرت کے دوسرے سال سترہ (١٧) رمضان ، جمعہ کے دِن معرکہ بدر واقع ہوا جِس میں اللہ تعالیٰ نے مُسلمانوں کو بہت واضح اور بڑی کامیابی عطا فرمائی ،
::: فتح مکہ المکرمہ ::: ہجرت کے بعد اللہ کی دِین کی سربلندی اور ایک اکیلے اللہ کی عبادت کے لیے زُبانی ، مالی ، جسمانی جہاد کرتے کرتے اور ہر مُشقت برداشت کرتے کرتے ، ہجرت کے نویں سال میں ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اِیمان والوں کے دِل و آنکھیں ٹھنڈی فرماتے ہوئے ، اُنہیں مکہ المکرمہ عطاء فرمایا اور سب اِیمان والے اپنے قائدِ اعظم مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سربراہی میں ، سن آٹھ(٨)ہجری ، سترہ (١٧) رمضان ، بروز منگل ، صُبح کے وقت فاتح کی حیثیت سے مکہ المکرمہ میں داخل ہوئے ،
::: ابن مسعود رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے ''''' جب نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ المکرمہ ( فاتح کی حیثیت سے ) داخل ہوئے تو کعبہ کے اِرد گِرد تین سو ساٹھ بُت تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن بتوں کو اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی لکڑی سے مارتے جاتے اور فرماتے جاتے ( جاء الحَقُّ وَزَہَقَ البَاطِلُ اِِنَّ البَاطِلَ کان زَہُوقًا) ( اور حق آ گیا اور باطل ہلاک ہو گیا اور باطل ہلاک ہی ہونے والا تھا ) جاء الحَقُّ وما یُبدِءُ البَاطِلُ وما یُعِیدُ، حق آ گیا اور( اب) باطل ظاہر نہ ہو گا اور نہ ہی واپس پلٹے گا ''''' اور جب تک کعبہ میں موجود سب کی سب تصویریں مِٹا نہیں دِی گئیں اور بُت توڑ نہیں دیے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر داخل نہیں ہوئے ،
::: فتح مکہ کے بعدوہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارد گرد کے علاقوں میں تمام بُتوں کو توڑنے اور جلانے کے لیے اپنے فوجی دستے ، اور اسلام کی دعوت کے لیے دعوتی وفود ارسال فرمائے ، اور چند دِن قیام فرمانے کے بعد واپس مدینہ المنورہ تشریف لے گئے ،
::: حجۃ الوِداع ::: سن دس ہجری ، چوبیس (٢٤) ذی القعدہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم (جِن میں اہل مدینہ اور آس پاس والے سب ہی تھے )کے ساتھ حج کے لیے مکہ المکرمہ کی طرف روانہ ہوئے ، اور حج پورا فرمانے کے بعد مدینہ المنورہ واپس تشریف لائے ،
::: اپنے رب کی طرف واپسی کے سفر کا آغاز ::: حج سے واپسی کے بعد ، سن گیارہ (١١) ہجری ، صفر کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو جِسمانی تکلیف شروع ہو گئی ، اور اپنی بیگمات سے اجازت طلب فرما کر کہ وہ اپنی بیماری کے دِن عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گذاریں ، اپنی محبوبہ بیوی اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر مُنتقل ہو گئے ،
::: ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ کو حُکم فرمایا کہ لوگوں کی اِمامت کریں ،
::: دِن بدِن بیماری بڑہتی گئی یہاں تک کہ، بروز سوموار ضُحیٰ ( دوپہر سے کچھ دیر پہلے ) رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ اپنے رب اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے پاس بلا لیے گئے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی میّت مُبارک کو اُن کی قمیص میں ہی غُسل دِیا گیا اور غُسل دینے والے ، اُن کے چچا العباس ، العباس کے بیٹے الفضل اور قثم ، اور علی بن ابی طالب ، اُسامہ بن زید ، اوس بن خولی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے غُلام شقران رضی اللہ عنہم اجمعین تھے ، اور کیفیت یہ تھی کہ علی رضی اللہ عنہُ نے اُن صلی اللہ علیہ و علیہ و علی آلہ وسلم کے جِسم مُبارک اپنی گود میں بٹھا رکھا تھا اور اپنے سینے کی ٹیک دے رکھی تھی اور العباس اور اُن کے دونوں بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے جسم مُبارک کو پلٹاتے غُسل دیتے ملتے اور علی بھی ، اور اُسامہ اور شقران پانی ڈالتے ، رضی اللہ عنہم اجمعین ،
::: غسل کے بعد ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا ، جِن میں نہ قمیص تھی نہ عِمامہ ،
::: دفن کی جگہ کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کوئی فیصلہ نہ کر پا رہے تھے تو ابو بکر رضی اللہ عنہُ نے فرمایا کہ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ (ما قُبِضَ نَبِیٌّ اِلا دُفِنَ حَیثُ یُقبَضُ )(جہاں جِس نبی (کی رُوح ) کو قبض کیا جاتا ہے وہیں اُس کو دفن کیا جاتا ہے )، یہ سُن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی اُٹھائی اور اُسی جگہ پر قبر کھودی جِس میں لحد (چھوٹی جانبی قبر )بھی کھودی گئی ،
::: اِس تیاری کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم دس دس کے گروہ کی صورت میں حجرے میں داخل ہوتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑہتے ، مَردوں کے بعد خواتین نے اِسی طرح نماز پڑہی اور خواتین کے بعد بچوں نے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز جنازہ کی اِمامت کِسی نے بھی نہیں کروائی ، بلکہ سب نے اپنے اپنے طور پر الگ الگ نماز پڑہی
::: ادئیگی نماز میں منگل کا سارادن گذر گیا ، اور اُس کے بعد بُدھ کی رات (یعنی منگل اور بُدھ کی درمیانی رات ) کا کافی حصہ بھی ، تقریباً آدھی رات کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دفن کر دِیا گیا ، اللہ کی وحی کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ،
(وما مُحَمَّدٌ اِلا رَسُولٌ قد خَلَت من قَبلِہِ الرُّسُلُ اَفَاِِن مَاتَ او قُتِلَ انقَلَبتُم علی اَعقَابِکُم وَمَن یَنقَلِب علی عَقِبَیہِ فَلَن یَضُرَّ اللَّہَ شیاا وَسَیَجزِی اللہ الشَّاکِرِینَ )(مُحمد بھی اُسی طرح ایک رسول ہیں جِس طرح اُن سے پہلے رسول ہو گذرے ہیں اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو کیا تُم لوگ اپنی ایڑیوں پر واپس پِھر جاؤ گے اور جو کوئی اپنی ایڑیوں پر واپس پِھر جائے گا تو وہ اللہ کوئی ہر گِز کِسی چیز میں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ جلد ہی شکر کرنے والوں کو اجر دے گا )
اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَاَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ علی آلِ اِبراہیم وَبَارِک
علی مُحَمَّدٍ وَاَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ علی آلِ اِبراہیم اِِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
لیبیا کے "ظالم ڈکٹیٹر" معمر قضافی کے عوام پر ڈھائے جانے والے "مظالم" کی تفصیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!
لیبیا کے "ظالم ڈکٹیٹر" معمر قضافی کے عوام پر ڈھائے
جانے والے "مظالم" کی تفصیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!
۱۔ لیبیا میں بجلی مفت ہے، پورے لیبیا میں کہیں بجلی کا بل نہیں بھیجا جاتا۔۔
۲۔ سود پر قرض نہیں دیا جاتا، تمام بینک ریاست کی ملکیت تھے اور صفر فیصد سود پر شہریوں کو قرض کی سہولت دیتے تھے۔۔
۳۔ اپنا گھر لیبیا میں انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے حکومت شہریوں کو مکمل مالی مدد فراہم کرتی تھی۔۔
۴۔ تمام نئے شادی شدہ جوڑوں کو اپنا نیا گھر بنانے کی مد میں حکومت پچاس ہزار ڈالرز مفت میں فراہم کرتی تھی۔۔
۵۔ پڑھائی اور علاج کی سہولتیں لیبیا کے تمام شہریوں کو بنا پیسوں کے حاصل ہیں۔ قذافی سے پہلے 25 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے جبکہ آج 83 فیصد لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔۔
۶۔ کسانوں کو زرعی آلات، بیج اور زرعی زمین مفت میں فراہم کی جاتی تھی۔۔
۷۔ اگر کسی باشندے کو لیبیا میں علاج معالجے یا تعلیم کی صحیح سہولت میسر نہیں تو حکومت بنا کسی خرچے کے بیرون ملک بھجواتی تھی۔۔
۸۔ لیبا میں اگر کوئی شخص اپنی گاڑی خریدنا چاہتا ہے تو حکومت 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی تھی۔۔
۹۔ پیٹرول کی قیمت 0.14$ فی لیٹر تھی۔۔
۱۰۔ لیبیا پر کوئی بیرونی قرضہ نہیں اور لیبیا کے اثاثوں کی کل مالیت تقریبا 150$ ارب ڈالر سے زائد تھے، جن پر اب مغربی ممالک کا قبضہ ہے۔۔
۱۱۔ اگر کوئی باشندہ گریجوایشن کرنے کے بعد بھی نوکری حاصل نہیں کر پارہا تو حکومت اسے اسکی تعلیمی استعداد کے مطابق مفت تنخواہ ادا کرتی تھی تا وقت کہ اس باشندے کی ملازمت لگ جائے۔۔
۱۲۔ ملک کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ تمام لیبیائی باشندوں کے بینک اکاؤنٹوں میں جمع کروا دیا جاتا تھا۔
۱۳۔ ماں کو ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی طرف سے 5000$ ڈالر مفت فراہم کئے جاتے تھے۔
۱۴۔ قذافی نے ملک کی صحرائی آبادی کے پیش نظر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی دریا بنانے کا پروجیکٹ بھی شروع کیا تھا ، تا کہ پورے ملک میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
یہ ان مظالم میں سے کچھ کی تفصیل ہے جو قضافی نامی ڈکٹیٹر نے لیبیا کی عوام پر ڈھائے ۔
ان مظالم کے علاوہ قضافی نے تین بہت بڑے گناہ اور بھی کیے تھے ۔
پہلا کہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام کے لیے 100 ملین ڈالر کی رقم اس وقت فراہم کی جب پاکستان پر ہر طرح کی پابندیاں تھیں ۔ اسی رقم سے پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا ۔
دوسرا اس نے ہمیشہ مسلمان ممالک کو اکھٹا کر کے انکا ایک بلاک بناے کی کوشش کی ۔ کبھی افریقی ممالک کا بلاک کبھی عرب ممالک کا ۔ لیکن ہمارے مسلمان ممالک قضافی کی اس " چال " میں نہیں آئے اور آپس میں ہی لڑنے مرنے پر متفق رہے ۔
تیسری چیز میں تو اسنے حد ہی کر دی جب اس نے سونے اور چاندی کے سکوں میں لین دین کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ پیپر کرنسی جعلی کرنسی ہے ۔
ان کے ان کرتوتوں کی بدولت ہی امریکہ نے اس کو القاعدہ کی مدد سے قتل کروا دیا تاکہ لیبیا کے عوام کو ایک ظالم ڈکٹیٹر سے نجات دلائی جا سکے ۔
اب لیبیا میں مکمل جمہوریت آچکی اور لیبیا بھی پاکستانی عوام کی طرح جمہوریت کے مزے لے رہی ہے !!!!!!
۱۔ لیبیا میں بجلی مفت ہے، پورے لیبیا میں کہیں بجلی کا بل نہیں بھیجا جاتا۔۔
۲۔ سود پر قرض نہیں دیا جاتا، تمام بینک ریاست کی ملکیت تھے اور صفر فیصد سود پر شہریوں کو قرض کی سہولت دیتے تھے۔۔
۳۔ اپنا گھر لیبیا میں انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے حکومت شہریوں کو مکمل مالی مدد فراہم کرتی تھی۔۔
۴۔ تمام نئے شادی شدہ جوڑوں کو اپنا نیا گھر بنانے کی مد میں حکومت پچاس ہزار ڈالرز مفت میں فراہم کرتی تھی۔۔
۵۔ پڑھائی اور علاج کی سہولتیں لیبیا کے تمام شہریوں کو بنا پیسوں کے حاصل ہیں۔ قذافی سے پہلے 25 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے جبکہ آج 83 فیصد لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔۔
۶۔ کسانوں کو زرعی آلات، بیج اور زرعی زمین مفت میں فراہم کی جاتی تھی۔۔
۷۔ اگر کسی باشندے کو لیبیا میں علاج معالجے یا تعلیم کی صحیح سہولت میسر نہیں تو حکومت بنا کسی خرچے کے بیرون ملک بھجواتی تھی۔۔
۸۔ لیبا میں اگر کوئی شخص اپنی گاڑی خریدنا چاہتا ہے تو حکومت 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی تھی۔۔
۹۔ پیٹرول کی قیمت 0.14$ فی لیٹر تھی۔۔
۱۰۔ لیبیا پر کوئی بیرونی قرضہ نہیں اور لیبیا کے اثاثوں کی کل مالیت تقریبا 150$ ارب ڈالر سے زائد تھے، جن پر اب مغربی ممالک کا قبضہ ہے۔۔
۱۱۔ اگر کوئی باشندہ گریجوایشن کرنے کے بعد بھی نوکری حاصل نہیں کر پارہا تو حکومت اسے اسکی تعلیمی استعداد کے مطابق مفت تنخواہ ادا کرتی تھی تا وقت کہ اس باشندے کی ملازمت لگ جائے۔۔
۱۲۔ ملک کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ تمام لیبیائی باشندوں کے بینک اکاؤنٹوں میں جمع کروا دیا جاتا تھا۔
۱۳۔ ماں کو ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی طرف سے 5000$ ڈالر مفت فراہم کئے جاتے تھے۔
۱۴۔ قذافی نے ملک کی صحرائی آبادی کے پیش نظر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی دریا بنانے کا پروجیکٹ بھی شروع کیا تھا ، تا کہ پورے ملک میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
یہ ان مظالم میں سے کچھ کی تفصیل ہے جو قضافی نامی ڈکٹیٹر نے لیبیا کی عوام پر ڈھائے ۔
ان مظالم کے علاوہ قضافی نے تین بہت بڑے گناہ اور بھی کیے تھے ۔
پہلا کہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام کے لیے 100 ملین ڈالر کی رقم اس وقت فراہم کی جب پاکستان پر ہر طرح کی پابندیاں تھیں ۔ اسی رقم سے پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا ۔
دوسرا اس نے ہمیشہ مسلمان ممالک کو اکھٹا کر کے انکا ایک بلاک بناے کی کوشش کی ۔ کبھی افریقی ممالک کا بلاک کبھی عرب ممالک کا ۔ لیکن ہمارے مسلمان ممالک قضافی کی اس " چال " میں نہیں آئے اور آپس میں ہی لڑنے مرنے پر متفق رہے ۔
تیسری چیز میں تو اسنے حد ہی کر دی جب اس نے سونے اور چاندی کے سکوں میں لین دین کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ پیپر کرنسی جعلی کرنسی ہے ۔
ان کے ان کرتوتوں کی بدولت ہی امریکہ نے اس کو القاعدہ کی مدد سے قتل کروا دیا تاکہ لیبیا کے عوام کو ایک ظالم ڈکٹیٹر سے نجات دلائی جا سکے ۔
اب لیبیا میں مکمل جمہوریت آچکی اور لیبیا بھی پاکستانی عوام کی طرح جمہوریت کے مزے لے رہی ہے !!!!!!
Subscribe to:
Posts (Atom)





